مسلمانوں ... کچھ ٹھوکر کھا بلاکس کی فکری بحران

پرہف۔ م۔ نعجاتءللاھ سیددیقی
  • share
  • share
  • share
  • share
  • share

ڈیرہ غازی خان سمیت تمام اضلاع کی میونسپل کارپوریشنوں اور ڈسٹرکٹ کونسلوں اور لاہور کی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں نوجوانو ں، مذہبی اقلیتوں، خواتین، کسان/ مزدور اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد امیدواران نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے جن کی اب نئے قانون (منظور کئے گئے بل) کے مطابق کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اب جب کبھی بھی مخصوص نشستوں کے انتخابات ہوئے اور ان کے لیے نیا شیڈول جاری کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ان خواتین و حضرات کو نئے سرے سے کاغذات جمع کرانے پڑیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو فہرست برائے امیدواران سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمشن کو جمع کرائی جائے اس فہرست میں ان خواتین و حضرات کے سوا کئی اور نام بھی ہوں۔ الیکشن کمیشن کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جو ناقابل واپسی فیس کروڑوں روپے کی صورت میں جمع کرائی گئی وہ بھی اب سرکاری خزانے کی نذر ہو چکی ہے۔ یہ کون سا جرمانہ ہے جو انتخابات کے نام پر عوام (امیدوار) سے وصول کئے جاتے ہیں اور جس مقصد کے لیے یہ رقم وصول کی جاتی ہے وہ تقریب مسلس التوا کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے؟ ماضی میں بلدیاتی انتخابات بھی کئی بار ملتوی ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے جمہوری نظام کی نچلی سطح سے افزائش کا عمل بھی معطل ہوا ہے۔

ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

ایک صارف کے طور پر ، اگر آپ کو ہماری ای میل خبرنامے کے تمام کرنے کے لئے مکمل رسائی حاصل ہوگی

book
book